Amraz-A-Itfal by Hakeem Khursheed Ahmed Shafqat Aezmi - Hakeem Hazik
July 30, 2021

Amraz-A-Itfal by Hakeem Khursheed Ahmed Shafqat Aezmi

امراض اطفال مصنف حکیم خورشید احمد شفقت اعظمی

حکیم خورشید احمد شفقت آزمی کی ایک بہت اعلی پائے کی کتاب ہر آدمی کو ہر معالج کو لازمی پڑھنی چاہیے امراض اطفال اس میں بچوں کے تمام امراض تفصیل ً بیان کئے گئے ہیں کتاب کا تعارف فلسفہ، ادب اور دیگر علوم وفنون کی طرح طب یونانی بھی ہمارے لیے سرمای افتخار ہے۔ آج یہ ایک طریقہ علاج ہی نہیں بلکہ اس سے بھی کچھ سوا ہے اور ہماری گنگا جمنی تہذیب کا ایک شاندار حصہ۔ یہ طب ہندوستان میں محمود غزنوی (1031-997ء) کے ساتھ آئی اور ضیاء الدین عبدالرافع ہردوی کا نام پہلے طبیب کے طور پر تاریخ کے صفحات پر ثبت ہے جوغزنوی سلطنت کے آخری تاجدار خسرو ملک (1186-1160ء) کا درباری طبیب تھا۔ چونکہ طب یونانی کو یہاں کی آب و ہوا اور ماحول انتہائی راس آنے لہذاعوام و خواص دونوں میں مقبول ہوتی چلی گئی ۔ عہد غلامان (1290 – 1206ء) میں تو اسے خوب عروج ملا، اس کے بعد خلیجی عہد ( 1320-1390ء) تغلق عہد (1413-1320ء) لودھی عبد (1526-1451ء) اور پر مغلیہ سلطنت (1857-1526ء) کے دور میں طب یونانی ترقی کے منازل طے کرتی چلی گئی ۔ ذاتی عملی مطب اور شاہی شفاخانوں کے علاوہ سریری (clinical) تعلیمی و تدریسی تقاضوں کی پابجائی کے لیے مختلف موضوعات پرواقیع کتابیں بھی لکھی گئیں لیکن یہ سارا سرمایہ ہنوز فارسی زبان میں تھا۔ نجی مطب ، مدرسوں اورطبی اداروں میں بھی ذریعہ تعلیم عربی و فارسی تھا۔ اردو زبان اور طب کا رشتہ اٹھارہویں صدی میں فورٹ ولیم کالج اور دلی کالج کے قیام کے کچھ دن بعد استوار ہوا۔ انیسویں صدی کے اختتام تک اردو میں جونثری اور شعری سرمایہ اردو کے دامن میں پہنچا۔ اس پر طب یونانی کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح اردو زبان نے طب ایمان کے فروغ میں غیر معمولی کردار ادا کیا اور آج بھی برصغیر کے طبیہ کالجوں میں کامیاب ترین ذریعہ تعلیم ہونے کا شرف اس زبان کو حاصل ہے۔…

Leave a Reply